امریکا ایران جنگ بندی معاہدے میں پاکستان کی کوششیں رنگ لاتی نظر آتی ہیں کیونکہ معاہدے کی راہ میں حائل دونوں اہم رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں۔
ایک طرف لبنان میں جنگ بندی تو دوسری طرف ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر اس وقت ایران میں ہیں اور 2 دن کی بات چیت کے بعد یہ اعلان کیا گیا۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے تناظر میں اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔ اُن کے دورے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو جارج ڈبلیو بش جونیئر وہ آخری امریکی صدر تھے جنہوں نے 3 مارچ 2006 کو پاکستان کا دورہ کیا تھا اور اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ اِسلام آباد میں ملاقات کی تھی جس میں دہشتگردی کے خلاف جنگ اور افغانستان کی صورتحال پر بات چیت کی گئی تھی۔
صدر بش کے بعد جے ڈی وینس پہلے امریکی نائب صدر تھے جنہوں نے 21 سال بعد ایران امریکا مذاکرات کے تناظر میں 12 اپریل کو پاکستان کا دورہ کیا اور اب موجودہ صورتحال کے تناظر میں صدر ٹرمپ کے دورہ پاکستان کے اِمکانات بھی روشن ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر جب گزشتہ روز وہ خود اِس سلسلے میں پاکستان آنے کا امکان ظاہر کر چُکے ہیں۔
پاکستان میں امریکی صدور کے دورے: تاریخ، پس منظر اور اثرات پاکستان اور امریکا کے تعلقات سرد جنگ سے لے کر دہشتگردی کے خلاف جنگ تک مختلف ادوار سے گزرتے رہے ہیں، مگر ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ امریکی صدور کے پاکستان کے دورے انتہائی کم رہے ہیں۔
اب تک صرف 5 امریکی صدور نے بطورِ صدر پاکستان کا دورہ کیا، اور ہر دورہ اپنے وقت کے عالمی اور علاقائی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔
سرد جنگ کا آغاز اور پہلا تاریخی دورہ پاکستان کا پہلا صدارتی دورہ دسمبر 1959 میں اس وقت ہوا جب امریکی صدر آئزن ہاور پاکستان پہنچے۔ اس وقت پاکستان میں صدر ایوب خان کی حکومت تھی اور دنیا سرد جنگ کے 2 بلاکس میں تقسیم تھی۔
اس دورے کا بنیادی مقصد سوویت یونین کے خلاف خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو مضبوط بنانا تھا۔ پاکستان پہلے ہی سیٹو اور سینٹو جیسے دفاعی اتحادوں کا حصہ بن چکا تھا، اس لیے اس دورے نے دونوں ممالک کے اسٹریٹیجک تعلقات کو مزید مستحکم کیا۔
نکسن کا دورہ اور چین سے خفیہ سفارتکاری جولائی 1969 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے پاکستان کا دورہ کیا، جو بظاہر ایک معمول کا سفارتی دورہ تھا لیکن درحقیقت اس کے اثرات عالمی سیاست پر بہت گہرے تھے۔
اس وقت پاکستان میں جنرل یحییٰ خان برسرِ اقتدار تھے۔ پاکستان نے امریکا اور چین کے درمیان خفیہ رابطوں میں پل کا کردار ادا کیا، اور نکسن کا یہی دورہ بعد میں امریکا چین تعلقات کی بحالی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
جمی کارٹر۔ اس طرح پاکستان عالمی سفارتکاری کے ایک اہم محور کے طور پر ابھرا۔
صدر جمی کارٹر کا دورہ جنوری 1978 میں صدر جمی کارٹر پاکستان آئے، جب جنرل ضیاالحق کی حکومت قائم تھی۔ اس دورے میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام، انسانی حقوق اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
امریکا اس وقت پاکستان کے ایٹمی عزائم پر تشویش رکھتا تھا، جبکہ پاکستان اپنی سیکیورٹی ضروریات کو مقدم سمجھتا تھا۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک پیچیدہ توازن کی عکاسی کرتا ہے۔
بِل کلنٹن کا مختصر مگر اہم دورہ
بل کلنٹن اور نواز شریف۔ مارچ 2000 میں امریکی صدر بل کلنٹن نے پاکستان کا نہایت مختصر، چند گھنٹوں پر مشتمل دورہ کیا۔ اس وقت پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث یہ دورہ انتہائی محدود رکھا گیا۔
کلنٹن نے اپنے پیغام میں جمہوریت کی بحالی، دہشتگردی کے خاتمے اور جنوبی ایشیا میں امن پر زور دیا۔ یہ دورہ علامتی طور پر اہم تھا مگر اس نے تعلقات کی پیچیدگی کو بھی نمایاں کیا۔
فیصل کمال پاشا





































