اے آئی کمپنی اینتھروپک نے کچھ صارفین سے اپنے چیٹ بوٹ ’کلاڈ‘ کے مخصوص فیچرز استعمال کرنے کے لیے سرکاری شناختی دستاویز اور بعض صورتوں میں لائیو سیلفی فراہم کرنے کی شرط شروع کر دی ہے۔
کمپنی کی جانب سے ’کلاڈ سپورٹ‘ پوسٹ میں اس اقدام کی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد اینتھروپک بڑی صارفین پر مبنی اے آئی کمپنیوں میں شامل ہو گئی ہے جو کچھ فیچرز تک رسائی کے لیے باقاعدہ شناختی تصدیق (آئی ڈی ویریفیکیشن) نافذ کر رہی ہے۔
صارفین سے کیا مانگا جا رہا ہے؟
یہ ویریفیکیشن عمل تھرڈ پارٹی کمپنی ’پرسونا آئیڈینٹٹیز‘ کے ذریعے مکمل کیا جاتا ہے۔ صارفین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنا پاسپورٹ، قومی شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس یا ریاستی شناختی کارڈ اپ لوڈ کریں جس کے ساتھ موبائل یا ویب کیم کے ذریعے لائیو سیلفی بھی لی جا سکتی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ عمل عموماً پانچ منٹ سے کم وقت میں مکمل ہو جاتا ہے۔
تاہم کچھ دستاویزات قبول نہیں کی جاتیں، جن میں فوٹو کاپیاں، اسکرین شاٹس، ڈیجیٹل آئی ڈی، اسٹوڈنٹ کارڈ، ملازم کارڈ، بینک کارڈ اور عارضی کاغذی شناختی کارڈ شامل ہیں۔ صرف تصویر والے سرکاری دستاویزات قابلِ قبول ہیں۔
ڈیٹا کا استعمال کیسے ہوتا ہے؟
اینتھروپک کے مطابق یہ تمام ویریفیکیشن ریکارڈز پرسونا کے سسٹم پر محفوظ ہوتے ہیں اور کمپنی ان تک رسائی رکھتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس ڈیٹا کی اضافی کاپی نہیں بناتی۔
اینتھروپک نے واضح کیا ہے کہ یہ معلومات اس کے اے آئی ماڈلز کی ٹریننگ کے لیے استعمال نہیں کی جاتیں۔ کمپنی کے مطابق یہ ڈیٹا صرف شناخت کی تصدیق، سیکیورٹی اور قانونی تقاضوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اسے تیسرے فریق کے ساتھ صرف قانونی یا ویریفیکیشن ضرورت کے تحت ہی شیئر کیا جاتا ہے۔
یہ قدم کیوں اٹھایا گیا؟
کمپنی کے مطابق یہ اقدام پلیٹ فارم کی سیکیورٹی اور غلط استعمال کو روکنے کے لیے ہے۔ کلاڈ سپورٹ پوسٹ میں کہا گیا کہ طاقتور ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسے کون استعمال کر رہا ہے۔
یہ ویریفیکیشن ہر صارف یا ہر فیچر کے لیے لازمی نہیں ہوگی0 بلکہ صرف مخصوص فیچرز یا سیکیورٹی چیک کے دوران سامنے آئے گی۔ کمپنی نے واضح نہیں کیا کہ کون سے فیچرز اس شرط کے تحت آتے ہیں۔




































