بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے ایک عہدیدار نے 27 مارچ 2026 کو جنیوا میں شروع ہونے والی 11ویں بین الاقوامی کانفرنس میں شریک مقررین کے پروفائلز جاری کردیے۔

جاری کردہ تفصیلات کے مطابق مقررین میں ڈاکٹر عائشہ شامل ہیں جو ایک سیاسیات کی ماہر اور کنگز کالج لندن میں سینیئر فیلو ہیں، جبکہ وہ پاکستان کی فوج پر لکھی گئی کتابوں خصوصاً ’ملٹری انکارپوریٹڈ‘ کی مصنفہ بھی ہیں۔

سردار اختر مینگل جو بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر اور سینیئر بلوچ سیاسی رہنما ہیں، کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر نسیم بلوچ چیئرمین بلوچ نیشنل موومنٹ اور بلوچ سیاسی شخصیت بھی مقررین میں شامل ہیں۔

مرسے مونجے کینو، جو یو این پی او کی سیکریٹری جنرل اور انسانی حقوق کی علمبردار ہیں، بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔

منظور پشتین، پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ اور پشتون سیاسی و حقوق کے کارکن، بھی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

شہباز خان جو سماجی و سیاسی کارکن اور ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے نمائندہ ہیں، بھی خطاب کریں گے۔

اینڈی ورماوٹ، بیلجیئم کے انسانی حقوق کے کارکن اور صحافی، جو پوسٹ ورسا کے چیئرمین اور یورپی یونین کلائمیٹ پیکٹ کے سفیر بھی ہیں، بھی مقررین میں شامل ہیں۔

گیری کارٹ رائٹ، ای یو ٹوڈے کے پبلشر و ایڈیٹر، چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف جرنلسٹس کے رکن اور یورپی پارلیمنٹ کے سابق مشیر بھی اس کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

اینا لورینا ڈیلاگیڈیلو اقوام متحدہ کے جبری گمشدگیوں سے متعلق ورکنگ گروپ کی رکن، انسانی حقوق کی وکیل اور متاثرین کے لیے سابق ڈپٹی اٹارنی، بھی خطاب کریں گی۔

ڈاکٹر ہدایت بھٹو، سندھی سیاسی کارکن اور ورلڈ سندھی کانگریس کے منتظم، بھی مقررین میں شامل ہیں۔

ڈاکٹر نصیر دشتی مصنف اور سیاسی تجزیہ کار، جو بلوچ ہیومن رائٹس کونسل کے ایگزیکٹو صدر بھی ہیں، کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

ثقلین امام سابق بی بی سی صحافی، جنہیں میڈیا میں 30 سال سے زیادہ کا تجربہ حاصل ہے، بھی اس کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

Overseas

Overseas

Overseas