امریکی خلائی ادارے ناسا نے تاریخی آرٹیمس ٹو مشن کامیابی سے لانچ کر دیا، جس کے تحت 4 خلا باز چاند کے گرد سفر پر روانہ ہو گئے۔ یہ مشن گزشتہ 50 برسوں میں پہلی بار انسانوں کو زمین کے قریبی مدار سے آگے لے جا رہا ہے۔

یہ راکٹ امریکی ریاست فلوریڈا میں قائم کینیڈی اسپیس سینٹر سے فضا میں بلند ہوا، جہاں ہزاروں افراد نے اس تاریخی لمحے کو براہِ راست دیکھا۔ 32 منزلہ اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کے ذریعے خلا بازوں کو اورین کیپسول میں روانہ کیا گیا، جو تقریباً 10 روزہ سفر کے دوران چاند کے گرد چکر لگا کر واپس زمین پر آئے گا۔

مشن میں شامل خلا بازوں میں ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور جیریمی ہینسن شامل ہیں۔ روانگی کے چند منٹ بعد کمانڈر نے چاند کو دیکھتے ہوئے کہا کہ ‘ہم اپنے ہدف کی جانب بڑھ رہے ہیں’۔

لانچ سے قبل ایندھن کی بھرائی کے دوران ممکنہ ہائیڈروجن لیکج اور دیگر تکنیکی مسائل پر تشویش پائی جاتی تھی، تاہم ماہرین نے تمام مسائل بروقت حل کر لیے۔ راکٹ میں 7 لاکھ گیلن سے زائد ایندھن کامیابی سے بھرا گیا۔

ماہرین کے مطابق خلا باز ابتدائی دنوں میں زمین کے مدار میں رہ کر تمام نظاموں کا جائزہ لیں گے، جس کے بعد خلائی جہاز چاند کی جانب روانہ ہوگا۔ واپسی پر کیپسول تیز رفتار سے زمین کے ماحول میں داخل ہو کر بحرالکاہل میں اترے گا۔

یہ مشن مستقبل میں انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے اور مریخ تک رسائی کے منصوبے کے لیے نہایت اہم ہے۔ چونکہ دنیا کی تقریباً نصف آبادی اس وقت پیدا ہی نہیں ہوئی تھی جب ناسا کے اپولو مشنز کے خلا بازوں نے آخری بار چاند پر قدم رکھا تھا، اس لیے آرٹیمس پروگرام کو ایک نئی نسل کے لیے چاند کا مشن قرار دیا جا رہا ہے۔

Entertainment

Overseas

Overseas