پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کو پیر کے روز آگاہ کیا گیا کہ ملک میں اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر مستحکم ہیں۔

اجلاس کے اعلامیے کے مطابق اس وقت ڈیزل کا ذخیرہ تقریباً 23 سے 24 دنوں کے لیے کافی ہے جبکہ پیٹرول کی دستیابی بھی تسلی بخش ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں حکومت نے عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد یعنی فی لیٹر 55 روپے کا نمایاں اضافہ کیا تھا۔

یہ اضافہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث ہوا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور فراہمی کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی، خاص طور پر اس وقت جب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہوئی۔

کمیٹی کا ایک اجلاس آج وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں بدلتی ہوئی عالمی سیاسی صورتحال کے تناظر میں پیٹرولیم ذخائر اور توانائی کے شعبے کا جائزہ لیا گیا۔

وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق کمیٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر، سپلائی کے انتظامات اور درآمدی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ بتایا گیا کہ موجودہ صورتحال مستحکم ہے۔

ڈیزل کا ذخیرہ 23 سے 24 دن کے لیے کافی ہے جبکہ پیٹرول کی دستیابی بھی مناسب سطح پر برقرار ہے۔

کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ خام تیل کے ذخائر اس وقت تقریباً 11 دن کے لیے کافی ہیں جبکہ مزید کارگو راستے میں ہیں، جو اپریل تک ریفائنریوں کی کارکردگی اور مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے اپریل کے لیے درآمدی منصوبوں کے فعال انتظام کے حوالے سے بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ کمرشل اور حکومت سے حکومت کے معاہدوں کے تحت بڑی مقدار پہلے ہی حاصل کی جا چکی ہے۔

کمیٹی کو یقین دہانی کرائی گئی کہ ریفائنریاں مکمل استعداد پر کام کر رہی ہیں اور مقامی طلب پوری کرنے کے لیے خام تیل کو زیادہ سے زیادہ ریفائنڈ مصنوعات میں تبدیل کیرہا ہے۔

تاہم، کمیٹی نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ عالمی تیل کی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ برقرار ہے، جہاں حالیہ دنوں میں قیمتوں اور کارگو پریمیئم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ارکان کے مطابق یہ صورتحال خطے میں غیر یقینی حالات کے باعث سپلائی سے متعلق خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔

کمیٹی نے خریداری کی حکمت عملیوں کا بھی جائزہ لیا اور جاری کوششوں کو سراہا، جن کے ذریعے موجودہ معاہدوں کے تحت نسبتاً کم قیمت پر سپلائی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

اجلاس میں ایندھن کی درآمد سے متعلق آپریشنل امور، جیسے شپنگ، انشورنس اور لاجسٹکس پر بھی غور کیا گیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام انتظامات شفافیت، تجارتی دانشمندی اور بلا تعطل فراہمی کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔

مزید برآں، مقامی مارکیٹ میں طلب میں حالیہ اضافے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ارکان نے زور دیا کہ ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی اور ملک بھر میں ہموار ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کی جائے۔ صوبائی حکومتوں اور ریگولیٹری اداروں کو اس حوالے سے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

سپلائی چین کی نگرانی کو بہتر بنانے کے لیے کمیٹی نے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے قیام پر بھی غور کیا، جس کے ذریعے ریئل ٹائم ڈیٹا دستیاب ہوگا۔ متعلقہ اداروں کو بروقت ڈیٹا شیئرنگ یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

کمیٹی نے ایندھن کی کوالٹی اور قیمتوں میں بہتری سے متعلق ایک تجویز کا بھی جائزہ لیا، جس کا مقصد مقامی استعمال میں بہتری اور ریفائننگ صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔ اس تجویز پر مزید مشاورت کے بعد دوبارہ غور کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ، اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے قیام کے لیے بھی کام شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا، جس کے لیے پیٹرولیم ڈویژن کو فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ عالمی قیمتوں کے اثرات کو عوام پر کم سے کم رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مشکل عالمی حالات کے باوجود بروقت منصوبہ بندی اور مربوط کوششوں سے ملکی سپلائی مستحکم رکھی گئی ہے۔

Entertainment

Overseas

Overseas