مشاورتی اجلاس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، چاروں صوبوں کی قیادت، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی قیادت بھی شریک ہوئی۔
اس کے علاوہ مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ بھی شریک تھے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ گلگت بلتستان کے نگراں وزیرِ اعلیٰ یار محمد، وزیرِ اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور بھی اجلاس میں شریک تھے۔
چاروں صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی جانب سے مہنگائی کے دباؤ کو کنٹرول کرنے، اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے اور عوام پر اثرات کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور اس کے پاکستان کی سکیورٹی، معیشت اور غذائی تحفظ پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کے باعث ایندھن کی فراہمی میں کوئی تعطل نہیں آیا۔
بریفنگ میں شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وافر ذخائر موجود ہیں۔
اس کے علاوہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس کو حکومت کی فعال سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا اور ترکی، سعودی عرب اور مصر کی قیادت سے حالیہ رابطے اور تنازع میں شامل ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت بریف کیا۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے اپنے آئندہ دورہ بیجنگ کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاون لگانے کا فیصلہ نہیں ہوا کیونکہ صوبوں کی رائے اس پر مختلف تھی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کو امن کیلٸے کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ مسلم دنیا بحران میں ہمیشہ پاکستان کی طرف دیکھتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جنگ میں کسی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اور عالمی بحران پر اجلاس بلایا گیا اور ہم نے پاکستان کے لئے اجلاس میں شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم کبھی ایسسے کسی فیصلے کا حصہ نہیں بننے جو عوام پر بوجھ بنے، ہمیں 1375 ارب سے زیادہ این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا جارہا جبکہ فاٹا کے لوگوں کا حق دوسرے صوبے کھارہے ہیں۔






















