متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی قیادت کی جانب سے کی گئی حالیہ اہم پریس کانفرنس نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس پریس کانفرنس میں جہاں بلدیاتی بااختیاری پر زور دیا گیا، وہیں اسے 28ویں آئینی ترمیم کے مطالبے سے جوڑ کر ایم کیو ایم نے اپنے مستقبل کا سیاسی خاکہ بھی پیش کر دیا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو درپیش بحرانوں کا واحد حل آئین میں 28ویں ترمیم ہے، جس کے ذریعے مقامی حکومتوں کو ایک مضبوط اور مؤثر تیسرے ستون کے طور پر تسلیم کیا جائے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رکنِ قومی اسمبلی حسان صابر نے آئین کے آرٹیکل 140-اے اور آرٹیکل 239 کا حوالہ دیتے ہوئے وی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ تمام انتظامی اور مالی اختیارات (جیسے پولیس، ماس ٹرانزٹ اور واٹر بورڈ) میئر کے ماتحت ہونے چاہئیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر نئے انتظامی یونٹس کا قیام آئینی تقاضا ہے، جسے غداری کے بجائے ایک ضرورت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
https://googleads.g.doubleclick.net/pagead/ads?gdpr=0&client=ca-pub-9325086394005161&output=html&h=178&slotname=9251370725&adk=3057568632&adf=3431396251&pi=t.ma~as.9251370725&w=730&lmt=1774585745&rafmt=11&format=730×178&url=https%3A%2F%2Fwenews.pk%2Fnews%2F442944%2F&uach=WyJXaW5kb3dzIiwiMTAuMC4wIiwieDg2IiwiIiwiMTQ2LjAuMzg1Ni43MiIsbnVsbCwwLG51bGwsIjY0IixbWyJDaHJvbWl1bSIsIjE0Ni4wLjc2ODAuMTU0Il0sWyJOb3QtQS5CcmFuZCIsIjI0LjAuMC4wIl0sWyJNaWNyb3NvZnQgRWRnZSIsIjE0Ni4wLjM4NTYuNzIiXV0sMF0.&abgtt=6&dt=1774585731275&bpp=9&bdt=781&idt=1876&shv=r20260326&mjsv=m202603230101&ptt=9&saldr=aa&abxe=1&cookie=ID%3D4de5e1e07521dc71%3AT%3D1772512410%3ART%3D1774585699%3AS%3DALNI_Mb6OfkDKhkQKf2B-MbEpGns6ScfDg&gpic=UID%3D000013676f184b61%3AT%3D1772512410%3ART%3D1774585699%3AS%3DALNI_Maqs7pLtStp8tNkDIQXtiL47DGueQ&eo_id_str=ID%3De7eee12f96a7e9fa%3AT%3D1772512410%3ART%3D1774585699%3AS%3DAA-AfjYRyH7Opn4Td74JAJK5sBPc&prev_fmts=0x0&nras=1&correlator=823641571049&frm=20&pv=1&u_tz=300&u_his=1&u_h=1024&u_w=1280&u_ah=984&u_aw=1280&u_cd=32&u_sd=1&dmc=8&adx=454&ady=1517&biw=1257&bih=900&scr_x=0&scr_y=0&eid=95386648%2C95372615%2C95386955&oid=2&pvsid=7582960867351305&tmod=778953247&uas=0&nvt=1&ref=https%3A%2F%2Fwenews.pk%2F&fc=1920&brdim=0%2C0%2C0%2C0%2C1280%2C0%2C1280%2C984%2C1272%2C900&vis=1&rsz=%7C%7CpeEbr%7C&abl=CS&pfx=0&fu=128&bc=31&bz=1.01&ifi=2&uci=a!2&btvi=1&fsb=1&dtd=14224
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ 18ویں آئینی ترمیم پر مکمل عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا، جبکہ اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات بھی موجود ہیں۔
ایم کیو ایم کی قیادت کا مؤقف ہے کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے اختیارات وفاق سے صوبوں تک تو منتقل ہوئے، لیکن صوبوں نے یہ اختیارات نچلی سطح یعنی عوام تک منتقل نہیں کیے، بلکہ انہیں وزرائے اعلیٰ تک محدود رکھا گیا ہے۔
تجزیہ کار اور صحافی ارمان صابر کے مطابق یہ مطالبہ دراصل ایم کیو ایم کی سیاسی بقا اور مستقبل کی حکمت عملی سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے خیال میں ایم کیو ایم اس وقت ایک ایسے بیانیے کی تلاش میں ہے جو اسے کراچی اور شہری سندھ کے متوسط طبقے میں دوبارہ مقبول بنا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کا مطالبہ پیش کرکے ایم کیو ایم یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ صرف نشستوں کی سیاست نہیں، بلکہ نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کر رہی ہے۔
مزید یہ کہ اس مطالبے کے ذریعے ایم کیو ایم نے خود کو پیپلز پارٹی کے مدِ مقابل ایک مضبوط پوزیشن میں لانے کی کوشش کی ہے۔ اگر وہ دیگر سیاسی جماعتوں کو اس ترمیم پر قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ اس کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق مصطفیٰ کمال کا یہ مؤقف کہ سول انتظامیہ کو مضبوط ہونا چاہیے، دراصل اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اندرونی استحکام بلدیاتی نظام کی مضبوطی سے ہی ممکن ہے۔ یوں ایم کیو ایم اپنی سیاست کو قومی استحکام کے بیانیے کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پریس کانفرنس محض مطالبات تک محدود نہیں، بلکہ ایک مکمل سیاسی منشور کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر حکومت 28ویں ترمیم کے حوالے سے سنجیدہ پیشرفت نہیں کرتی، تو ایم کیو ایم حکومت سے علیحدگی یا احتجاج کا راستہ اختیار کرسکتی ہے تاکہ اپنے ووٹ بینک کو متحرک رکھا جا سکے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ آئین میں ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، جس کے لیے ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ن) کی حمایت حاصل کرنا ہوگی جو بظاہر ایک بڑا چیلنج ہے۔






















